Posts

Qaid قید

Ek qaid hai- -ایک قید ہے Sochon, khwabon, aur khwahishon ki. سوچوں، خوابوں، اور خواہشوں کی۔ Ek jung hai- - ایک جنگ ہے Jo chalti hai sirf khud se, ،جو چلتی ہے صرف خود سے Kabhi kamzorioun aur iradon se, ،کبھی کمزوریوں اور ارادوں سے Kabhi apni hi khamoshi se. کبھی اپنی ہی خاموشی سے۔ Yeh jung chup chaap cheen leti hai یہ جنگ چپ چاپ چھین لیتی ہے Mera waqt, meri tawanai, ،میرا وقت، میری توانائی Aur badle mein deti hai اور بدلے میں د یتی ہے Ek gehri, benaam thakan- -ایک گہری، بےنام تھکن Jo na sirf jism ko thaka deti hai, ،جو نہ صرف جسم کو تھکا د یتی ہے Balki rooh tak utar jaati hai. بلکہ روح تک اتر جاتی ہے۔ Azadi? آزادی؟ Woh sirf bahar ki zanjiron se nahi, ،وہ صرف باہر کی زنجیروں سے نہیں Asal azadi to اصل آزادی تو Andar ke darwaze kholne mein hai. اندر کے دروازے کھولنے میں ہے۔ Aise darwaze ایسے دروازے Jo hum ne khud banaye hote hain- - جو ہم نے خود بنائے ہوتے ہیں D...
زندگی وہ سوال ہے، جس کا ہر جواب صرف وقت دیتا ہے۔ زندگی کو سمجھنے سے بہتر ہے اسے محسوس کرنا۔ کبھی کبھی، زندگی سنبھلنے کے لیے پہلے بکھرتی ہے۔

جو دیر سے ملے

،انسان بے حد بے صبر واقع ہوا ہے ...ہر شے کی اسے جلدی ہے ،دُعاؤں کے قبول ہونے کی ،رازوں کے فاش ہونے کی ،من پسند چہرے کو پا لینے کی ہر خواب کو فوراً حقیقت بنانے کی۔ ،نہ انجام کی پروا، نہ حکمتِ وقت کی سمجھ بس جلدی ہے ہر ایک شے پانے کی۔ ...پھر جب جو چاہا نہ ملا ،تو شکوہ بھی اُسی ربّ سے ،جس نے اگر نہ دیا، تو بہتری کے لیے روکا اور اگر دے دیا، تو شاید آزمائش کے لیے دیا۔ ...ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ،جو دیر میں ملتا ہے، وہ اکثر خیر میں ہوتا ہے ...اور جو فوراً مل جائے وہ ہمیشہ ہمارے حق میں نہیں ہوتا سامیہ الماس 

مصحف از نمرہ احمد

Image
 نمرہ احمد کی لکھی ہوئی یہ کہانی کسی بڑی لڑائی، محبت، یا سنسنی خیز موڑوں کی داستان نہیں... یہ ایک خاموش مگر گہرا مکالمہ ہے — انسان اور اس کے رب کے درمیان۔ محمل ابراہیم... ایک لڑکی جو باہر سے خاموش، لیکن اندر سے ٹوٹی ہوئی، بکھری ہوئی اور سوالوں میں گھری ہوئی تھی۔ زندگی کے تلخ سچ، اپنوں کی بےرخی، معاشرے کے سرد رویے — سب کچھ برداشت کیا، لیکن دل کا خلا کبھی نہ بھر سکا۔ پھر اچانک، اس کے ہاتھ میں آتا ہے ایک "مصحف" — وہ قرآن، جو اکثر گھروں میں رکھا تو جاتا ہے، لیکن کھولا نہیں جاتا، سمجھا نہیں جاتا۔ یہ کہانی نہیں، دھیرے دھیرے کھلنے والا راز ہے — کہ اللہ کی کتاب صرف حرفوں کا مجموعہ نہیں، وہ زندگی کی اصل کتاب ہے۔ ایسی کتاب جو صرف گناہوں سے نہیں، اداسیوں سے بھی پاک کرتی ہے۔ مصحف ہمیں بتاتا ہے کہ بعض اوقات، ہمیں کسی انسان کی نہیں — ایک پیغام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جب وہ پیغام دل پر اترتا ہے، تو پرانی زنجیریں خودبخود ٹوٹ جاتی ہیں۔ ...ہم سب اپنی زندگی میں "محمل" بن جاتے ہیں — سوالوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے، سکون کی تلاش میں لیکن خوش نصیب وہ ہوتا ہے جسے " مصحف " مل جائے — ا...

خاموشی کی زبان

Image
 ہم ہمیشہ بولنے والوں کو سنتے ہیں، لیکن خاموش رہنے والوں کی صدائیں اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جو جتنا کم بولتا ہے، ہم اسے اتنا ہی کم جانتے ہیں؟ جبکہ اکثر وہی لوگ اندر سے سب سے زیادہ شور میں ڈوبے ہوتے ہیں۔  خاموش لوگ کمزور نہیں ہوتے، وہ بس لفظوں کو سنبھال کر استعمال کرتے ہیں۔ ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے، لیکن وہ جانتے ہیں کہ ہر بات ہر کسی کو نہیں سمجھ آتی۔ ،کچھ خاموشیاں احتجاج ہوتی ہیں ، کچھ تحفظ کچھ بس عادت بن چکی ہوتی ہیں۔ اور بعض اوقات، خاموش رہنا خود کو بچانے کا واحد طریقہ ہوتا ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی وقت "سننے والا" بننا چاہتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ صرف جواب دینے کے لیے سنتے ہیں، سمجھنے کے لیے نہیں۔  خاموش انسانوں کو پرکھنے کے بجائے، ان کے سکوت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔  کیونکہ جو باتیں وہ زبان سے نہیں کہتے، وہ ان کی آنکھوں، انداز، اور خاموش سانسوں میں چھپی ہوتی ہیں۔ خاموشی کمزوری نہیں، ایک گہری سوچ کا غلاف ہے۔ اور سوچ... اکثر شور میں نہیں، سکوت میں پروان چڑھتی ہے۔ Khamoshi Ki Zaban Hum hamesha bolne walon ko sun...
Image
نظم : بارش بارش — کہنے کو ایک لفظ ہے، ایک موسم ، مگر اپنے اندر بےشمار احساسات اور ان گنت راز سموئے ہوئے ہے۔ بارش کی بوندیں زمین میں دفن ہو جاتی ہیں ، جیسے کوئی چھپی ہوئی دعا ،  یا ایک خاموشی میں کہی گئی بات۔ سنا ہے بارش کا تعلق دل کے موسم سے ہوتا ہے ... کسی کو یہ اداس کر دیتی ہے  ، کسی کو خوش کرجاتی ہے۔ تو کیا آسمان روتا ہے؟ یا بادل برکت کی نوید لے کر آتے ہیں؟ شاید آسمان نہیں روتا ، یہ تو ہمارا دل ہے —  جو ٹوٹ کر برس پڑتا ہے ۔ برکت تب ہی اترتی ہے ، جب دل سچائی سے طلبگار ہو۔

ہر کسی کی سوچ اس کی زندگی کے تجربوں کا نتیجہ ہوتی ہے

ہم اکثر دوسروں کی سوچ، رائے یا رویوں پر حیران رہ جاتے ہیں۔ کبھی کسی کی شدت پسندی پریشان کرتی ہے، تو کبھی کسی کی بے نیازی الجھن میں ڈال دیتی ہے۔ لیکن اگر ہم گہرائی سے دیکھیں، تو سمجھ آتا ہے کہ ہر شخص کی سوچ اس کے گزرے ہوئے لمحوں، دکھوں، خوشیوں اور تجربات کی پیداوار ہوتی ہے۔ ہر زخم، ہر کامیابی، ہر جدوجہد اور ہر تعلق، انسان کی سوچ پر اثر ڈالتا ہے۔ کچھ لوگ ایک تلخ تجربے کے بعد محتاط ہو جاتے ہیں، تو کچھ اور مضبوط۔ کسی کا بچھڑنا کسی کو کمزور کر دیتا ہے، اور کسی کو مکمل۔ ہمیں دوسروں کی سوچ کو پرکھنے سے پہلے ان کے سفر کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیونکہ جو لفظ وہ بولتے ہیں، ان کے پیچھے کہانیاں ہوتی ہیں۔ اور کہانیاں... بس یوں ہی نہیں بنتیں۔ سوچنے کا انداز، زندگی کے زاویے سے جُڑا ہوتا ہے۔  آئیے ہم دوسروں کی سوچ پر تنقید سے پہلے ان کے سفر کا احترام کرنا سیکھیں۔