نظم : بارش
بارش—
کہنے کو ایک لفظ ہے، ایک موسم،
مگر اپنے اندر بےشمار احساسات اور ان گنت راز سموئے ہوئے ہے۔
بارش کی بوندیں زمین میں دفن ہو جاتی ہیں،
جیسے کوئی چھپی ہوئی دعا،
یا ایک خاموشی میں کہی گئی بات۔
سنا ہے بارش کا تعلق دل کے موسم سے ہوتا ہے...
کسی کو یہ اداس کر دیتی ہے ،
کسی کو خوش کرجاتی ہے۔
تو کیا آسمان روتا ہے؟
یا بادل برکت کی نوید لے کر آتے ہیں؟
شاید آسمان نہیں روتا،
یہ تو ہمارا دل ہے—
جو ٹوٹ کر برس پڑتا ہے۔
برکت تب ہی اترتی ہے،
جب دل سچائی سے طلبگار ہو۔
Comments