مصحف از نمرہ احمد
نمرہ احمد کی لکھی ہوئی یہ کہانی کسی بڑی لڑائی، محبت، یا سنسنی خیز موڑوں کی داستان نہیں... یہ ایک خاموش مگر گہرا مکالمہ ہے — انسان اور اس کے رب کے درمیان۔
محمل ابراہیم... ایک لڑکی جو باہر سے خاموش، لیکن اندر سے ٹوٹی ہوئی، بکھری ہوئی اور سوالوں میں گھری ہوئی تھی۔ زندگی کے تلخ سچ، اپنوں کی بےرخی، معاشرے کے سرد رویے — سب کچھ برداشت کیا، لیکن دل کا خلا کبھی نہ بھر سکا۔ پھر اچانک، اس کے ہاتھ میں آتا ہے ایک "مصحف" — وہ قرآن، جو اکثر گھروں میں رکھا تو جاتا ہے، لیکن کھولا نہیں جاتا، سمجھا نہیں جاتا۔
یہ کہانی نہیں، دھیرے دھیرے کھلنے والا راز ہے — کہ اللہ کی کتاب صرف حرفوں کا مجموعہ نہیں، وہ زندگی کی اصل کتاب ہے۔ ایسی کتاب جو صرف گناہوں سے نہیں، اداسیوں سے بھی پاک کرتی ہے۔
مصحف ہمیں بتاتا ہے کہ بعض اوقات، ہمیں کسی انسان کی نہیں — ایک پیغام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جب وہ پیغام دل پر اترتا ہے، تو پرانی زنجیریں خودبخود ٹوٹ جاتی ہیں۔
...ہم سب اپنی زندگی میں "محمل" بن جاتے ہیں — سوالوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے، سکون کی تلاش میں
لیکن خوش نصیب وہ ہوتا ہے جسے "مصحف" مل جائے — اور وہ اسے صرف پڑھے نہیں، محسوس کرے۔
کیا آپ نے بھی کبھی قرآن کو ایک ذاتی خط کی طرح کھولا ہے؟
Comments