نظم: فیصلے


کبھی کبھی زندگی وہ موڑ دکھاتی ہے

جو ہم نہ چاہیں، وہی راہ پر لے جاتی ہے

نہ اختیار ہوتا ہے، نہ ارادہ

بس لمحے خاموشی سے گزر جاتے ہیں

اکثر ہم وہ سہتے ہیں

جس کا فیصلہ، ہم نے کیا ہی نہیں

نہ ہم بدل سکتے ہیں

نہ وہ، جو ہمیں بدلنے پر تُلا ہو

دل الجھ سا جاتا ہے

اک نا ختم ہونے والی کشمکش میں

جہاں ہر سوال، ایک نیا زخم ہوتا ہے

اصل مسئلہ فیصلہ نہیں

وہ چہرہ ہوتا ہے

جو ہمارے لیے فیصلہ کرتا ہے

کیوں کہ جب ہم خود چنتے ہیں

تو دکھ بھی اپنے لگتے ہیں

مگر جب کوئی اور چُنے

تو دل، قصور وار ڈھونڈتا ہے

ہم انسان بھی کیا چیز ہیں

راستہ اگر خود چنیں

تو ٹھوکر کو قسمت مان لیتے ہیں

مگر اگر کسی اور کی رہ پر چلیں

تو ہر کانٹے کا الزام بھی

اسی کے سر رکھ دیتے ہیں

یہی ہے ہماری فطرت

فیصلے سے زیادہ

.فیصلہ کرنے والا چبھتا ہے

سامیہ الماس 

Comments